گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی سے انڈونیشیا کے سفیر، ایچ ای مسٹر چندرا ورسینانتو سوکوتیو نے گورنر ہاوس میں ملاقات
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی سے انڈونیشیا کے سفیر، ایچ ای مسٹر چندرا ورسینانتو سوکوتیو نے گورنر ہاوس میں ملاقات
Posted on: 01 Aug 2026 Tags: Governmentکراچی ( جولائی18 ) گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی سے انڈونیشیا کے سفیر، ایچ ای مسٹر چندرا ورسینانتو سوکوتیو نے گورنر ہاوس میں ملاقات
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی سے انڈونیشیا کے سفیر، ایچ ای مسٹر چندرا ورسینانتو سوکوتیو نے گورنر ہاو ¿س میں ملاقات کی۔ ملاقات میں کراچی میں تعینات انڈونیشیا کے قونصل جنرل ایم ڈی زاکر اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پاک۔انڈونیشیا دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے دوطرفہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافے، اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے اور معاشی شراکت داری کو نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات، خصوصاً چاول، آم، فارماسیوٹیکل مصنوعات، سرجیکل آلات اور اسپورٹس گڈز کی عالمی منڈیوں میں بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی چاول کو انڈونیشیا سمیت دیگر عالمی منڈیوں میں مزید مو ¿ثر انداز سے متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے، فارماسیوٹیکل، سرجیکل آلات اور اسپورٹس گڈز میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ نجی شعبے کے درمیان براہِ راست روابط، مشترکہ سرمایہ کاری اور تجارتی وفود کے تبادلوں سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انڈونیشیا کے سفیر ایچ ای مسٹر چندرا ورسینانتو سوکوتیو نے کہا کہ پاکستانی چاول، آم، ادویات، سرجیکل آلات اور فٹبال انڈونیشیا میں بے حد مقبول ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی پام آئل کی تقریباً 90 فیصد درآمدات انڈونیشیا سے کرتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات کے اختتام پر انڈونیشیا کے سفیر نے گورنر ہاو ¿س میں موجود مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔
Back