گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا افتتاح کر دیا

گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا افتتاح کر دیا

Posted on: 27 Oct 2026   Tags: Government

 بھٹ شاہ ( جولائی 29)  گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا افتتاح کر دیا

گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں سالانہ عرس مبارک کی تین روزہ تقریبات کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مزار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور ملک و قوم کی سلامتی، امن، استحکام، ترقی، خوشحالی اور اتحادِ امت کے لیے خصوصی دعا کی۔افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تعلیمات محبت، امن، رواداری، اخوت، انسان دوستی اور باہمی احترام کا لازوال پیغام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا فکر و فلسفہ سندھ کی تہذیب، ثقافت، روحانیت اور صوفی روایات کا درخشاں استعارہ ہے اور ان کا آفاقی پیغام آج بھی معاشرے میں برداشت، بھائی چارے، محبت، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے رہا ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ نوجوان نسل کو حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تعلیمات، فکر، شاعری اور صوفیانہ ورثے سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ایک پرامن، متحد، باوقار، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کے لیے محبت، امن اور انسان دوستی کا پیغام لے کر آئے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ جو رسالو کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ پوری دنیا حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی عظمت، فکر اور صوفیانہ پیغام سے آگاہ ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ سندھ اور پاکستان محبت، رواداری اور امن کے علمبردار ہیں۔ ان کے مطابق آج مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی عرس میں شرکت حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے آفاقی پیغامِ امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی گواہی ہے۔عرس مبارک کی افتتاحی تقریب میں عوامی نمائندوں، مشائخِ عظام، زائرین، ادبی و ثقافتی شخصیات، سرکاری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
Back