گورنر سندھ کا سی پی ایل سی کا دورہ
گورنر سندھ کا سی پی ایل سی کا دورہ
Posted on: 05 Jul 2026 Tags: Governmentکراچی ( جولائی02) گورنر سندھ کا سی پی ایل سی کا دورہ
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ سیٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کو وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ نوجوان نسل ادارے کے تجربات، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مستفید ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی پاکستان کا حقیقی سرمایہ اور روشن مستقبل ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں آگے لایا جائے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے اور انہیں قومی ترقی میں مو ¿ثر کردار ادا کرنے کے لیے بہترین مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سی پی ایل سی کے مرکزی دفتر کے دورے کے موقع پر ادارے کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ کے دوران کیا۔
اس سے قبل گورنر سندھ کی سی پی ایل سی کے مرکزی دفتر آمد پر ادارے کے چیف زبیر حبیب نے ضلعی ڈپٹی چیفس کے ہمراہ ان کا استقبال کیا اور انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ بعد ازاں گورنر سندھ نے سی پی ایل سی کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا اور ادارے کی کارکردگی، خدمات اور جدید نظام سے متعلق بریفنگ حاصل کی۔
سی پی ایل سی کے چیف زبیر حبیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کے پاس چوری شدہ اور برآمد ہونے والی گاڑیوں کا ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا بیس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ایل سی، اے وی ایل سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے گاڑیوں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاءکی چوری سے متعلق معلومات کی فراہمی اور جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سی پی ایل سی کے شناختی پروگرام کے تحت لاوارث لاشوں کی شناخت کا عمل بھی انجام دیا جاتا ہے، جبکہ ادارے کا کال سینٹر روزانہ سات سے آٹھ ہزار کالیں وصول کرتا ہے، جن میں گاڑیوں، موبائل فونز اور دیگر اشیاءکی چوری سمیت مختلف نوعیت کی شکایات اور عوامی مسائل کا اندراج کیا جاتا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سی پی ایل سی کا قیام 1989ءمیں اس وقت کے گورنر سندھ مرحوم فخرالدین جی ابراہیم کی ہدایات پر عمل میں آیا، جبکہ 2019ءمیں اسے پولیس ایکٹ کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا۔ اس وقت ادارے کے 135 نوٹیفائیڈ ممبران خدمات انجام دے رہے ہیں۔
زبیر حبیب نے بتایا کہ سی پی ایل سی کے دفاتر کراچی کے تمام اضلاع کے علاوہ حیدرآباد، جامشورو، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں قائم ہیں، جبکہ سکھر میں ایک ڈیسک فعال ہے اور جلد لاڑکانہ میں بھی ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کراچی سینٹرل جیل، ویمن اینڈ جووینائل جیل، لانڈھی جیل، سکھر جیل اور لاڑکانہ جیل میں بھی سی پی ایل سی کے دفاتر شہریوں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے سی پی ایل سی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، جرائم کی روک تھام، لاپتہ افراد اور لاوارث لاشوں کی شناخت میں سی پی ایل سی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا مو ¿ثر استعمال اور عوامی خدمت کا جذبہ اس ادارے کو دیگر اداروں کے لیے ایک مثالی ماڈل بناتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سی پی ایل سی مستقبل میں بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربات سے عوام کی خدمت کا سفر اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا۔
Back