گورنر سندھ کا شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کا دورہ
گورنر سندھ کا شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کا دورہ
Posted on: 11 May 2026 Tags: Governmentسکھر (23 اپریل 2026) گورنر سندھ کا شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کا دورہ
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کا دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز اور وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یوسف خشک نے کیا۔ گورنر سندھ نے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب یونیورسٹی کے علامہ آئی آئی قاضی ہال میں منعقد ہوئی۔
اپنے خطاب میں گورنر سندھ نے کہا کہ بدنصیب وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو خوش نصیب نہیں سمجھتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، جو ایک عظیم اعزاز ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں صحت، صلاحیت اور بے شمار نعمتیں میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن 2047 میں پاکستان کے قیام کو 100 سال مکمل ہو جائیں گے اور اس موقع پر ہمیں شکرگزاری کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے ہی مستقبل کے وائس چانسلرز، آئی جیز، کمشنرز، وزرائے اعلیٰ اور ارکانِ قومی اسمبلی سامنے آئیں گے، اس لیے آج سے ہی محنت اور تیاری شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی جبکہ میاں محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا، جس سے ملک کا دفاع مضبوط ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مضبوط دفاعی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور ہر چیلنج کا مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان کو چیلنجز کا سامنا رہا ہے، مگر افواجِ پاکستان نے ہر موقع پر مؤثر اور بھرپور جواب دیا، جس کے باعث آج پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام کریں اور اس عظیم درسگاہ سے حاصل ہونے والی تعلیم کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے لیپ ٹاپ کی تقسیم کو مساوی اور معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا۔
تقریب میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے سندھ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہد شفیق، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز، خرم عباس بھٹی، راجہ انصاری، اساتذہ، انتظامی افسران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر میرٹ پر منتخب طلبہ و طالبات میں 1100 سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یوسف خشک نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی تعلیمی، تحقیقی اور طلبہ سہولیات کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ میں 28 شعبہ جات اور 7 فیکلٹیز کے تحت ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز جاری ہیں جبکہ 185 سے زائد تعلیمی ادارے اس سے منسلک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے سائنسدان دنیا کے ٹاپ 2 فیصد محققین میں شامل ہیں اور ایک سال کے دوران 590 تحقیقی مقالے شائع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ میں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ 10 ہاسٹلز اور 51 بسوں کے ذریعے 3600 سے زائد طلبہ کو سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم ٹرانسپورٹ کے لیے مزید وفاقی فنڈز درکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 43 اسٹوڈنٹ سوسائٹیز، ایف ایم ریڈیو اور جدید اسپورٹس کمپلیکس موجود ہے، جبکہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے 11 ممالک کے ساتھ معاہدے ہیں اور ڈیٹ پام ریسرچ انسٹیٹیوٹ عالمی سطح پر نمایاں کام کر رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان خصوصاً سندھ کے طلبہ ڈیجیٹل میدان میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں اور ای کامرس کے شعبے میں دنیا میں چوتھے نمبر پر شمار کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے سندھ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہد شفیق نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام 4Es (Education، Employment، Entrepreneurship، Engagement/Environment) کے تحت جاری ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، کاروباری مواقع اور مثبت سماجی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے 200 سے زائد مختلف شعبوں میں نوجوانوں کو جدید مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید برآں لیپ ٹاپ اسکیم، اسکالرشپس، آسان شرائط پر قرضوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر خرم عباس بھٹی اور راجہ انصاری نے بھی خطاب کیا۔
تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یوسف خشک نے گورنر سندھ کو شیلڈ، اجرک اور سندھی ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔
اپنے خطاب میں گورنر سندھ نے کہا کہ بدنصیب وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو خوش نصیب نہیں سمجھتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، جو ایک عظیم اعزاز ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں صحت، صلاحیت اور بے شمار نعمتیں میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن 2047 میں پاکستان کے قیام کو 100 سال مکمل ہو جائیں گے اور اس موقع پر ہمیں شکرگزاری کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے ہی مستقبل کے وائس چانسلرز، آئی جیز، کمشنرز، وزرائے اعلیٰ اور ارکانِ قومی اسمبلی سامنے آئیں گے، اس لیے آج سے ہی محنت اور تیاری شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی جبکہ میاں محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا، جس سے ملک کا دفاع مضبوط ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مضبوط دفاعی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور ہر چیلنج کا مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان کو چیلنجز کا سامنا رہا ہے، مگر افواجِ پاکستان نے ہر موقع پر مؤثر اور بھرپور جواب دیا، جس کے باعث آج پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام کریں اور اس عظیم درسگاہ سے حاصل ہونے والی تعلیم کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے لیپ ٹاپ کی تقسیم کو مساوی اور معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا۔
تقریب میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے سندھ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہد شفیق، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز، خرم عباس بھٹی، راجہ انصاری، اساتذہ، انتظامی افسران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر میرٹ پر منتخب طلبہ و طالبات میں 1100 سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یوسف خشک نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی تعلیمی، تحقیقی اور طلبہ سہولیات کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ میں 28 شعبہ جات اور 7 فیکلٹیز کے تحت ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز جاری ہیں جبکہ 185 سے زائد تعلیمی ادارے اس سے منسلک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے سائنسدان دنیا کے ٹاپ 2 فیصد محققین میں شامل ہیں اور ایک سال کے دوران 590 تحقیقی مقالے شائع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ میں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ 10 ہاسٹلز اور 51 بسوں کے ذریعے 3600 سے زائد طلبہ کو سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم ٹرانسپورٹ کے لیے مزید وفاقی فنڈز درکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 43 اسٹوڈنٹ سوسائٹیز، ایف ایم ریڈیو اور جدید اسپورٹس کمپلیکس موجود ہے، جبکہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے 11 ممالک کے ساتھ معاہدے ہیں اور ڈیٹ پام ریسرچ انسٹیٹیوٹ عالمی سطح پر نمایاں کام کر رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان خصوصاً سندھ کے طلبہ ڈیجیٹل میدان میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں اور ای کامرس کے شعبے میں دنیا میں چوتھے نمبر پر شمار کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے سندھ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہد شفیق نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام 4Es (Education، Employment، Entrepreneurship، Engagement/Environment) کے تحت جاری ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، کاروباری مواقع اور مثبت سماجی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے 200 سے زائد مختلف شعبوں میں نوجوانوں کو جدید مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید برآں لیپ ٹاپ اسکیم، اسکالرشپس، آسان شرائط پر قرضوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر خرم عباس بھٹی اور راجہ انصاری نے بھی خطاب کیا۔
تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یوسف خشک نے گورنر سندھ کو شیلڈ، اجرک اور سندھی ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔